Home Trending Prime Minister’s Kamyab Jawan Program

Prime Minister’s Kamyab Jawan Program

38 second read
0
0
343

درخواست جمع کرانا:
1۔ سکيم سے متعلق معلومات کيسے اور کہاں سے حاصل کی جائيں؟
ج۔ سميڈا نے تمام درخواست دہندگان کی رہنمائی کے ليے ہيلپ ڈيسک قائم کيے ہيں۔ اس کے علاوه نيشنل
بينک آف پاکستان، بينک آف پنجاب اور بينک آف خيبر کی قريبی شاخوں سے بهی رہنمائی کے ليے
رابطہ کيا جا سکتا ہے۔

2۔ قرض کے ليے درخواست فارم کہاں سے حاصل کيا جائے؟
ج۔ اس سکيم کے تحت کاروباری قرضہ حاصل کرنے کے ليے تمام درخواستيں اس لنک پر کلک کار
کے آن لائن جمع کروائيں: pk.gov.kamyabjawan
3۔ ميں اس قرض کے ليے کس طرح درخواست دے سکتا ہوں؟
ج۔ قرض حاصل کرنے کے ليے نيچے ديے گئے لنک پر فارم پ ُر کريں اور جمع کروائيں:
http://yes.kamyabjawan.gov.pk/BankForm/ApplicantForm
4۔ اس سکيم کے ساته کون کون سے بينک منسلک ہيں؟
ج۔ ابتدائی طور پر مندرجہ زيل 3 بينک اس سکيم کے ساته منسلک ہيں:
ا۔ نيشنل بينک آف پاکستان
ب۔ بينک آف پنجاب
ج۔ بينک آف خيبر
5۔ کيا منسلک بينکوں کی کسی بهی شاخ سے درخواست جمع کروائی جا سکتی ہے؟
ج۔ اس سکيم کے تحت قرض لينے کے ليے درخواست صرف آن لائن جمع کروائی جا سکتی ہے۔ آپ کو
نيچے ديے گئے اس لنک پہ صرف فارم پُر کرکے جمع کرانا ہے۔
http://yes.kamyabjawan.gov.pk/BankForm/ApplicantForm
آپ کے منتخب کرده بينک کی قريبی شاخ خود بخود منتخب ہو جائے گی اورآپ کے ديے گئے نمبر پر
تصديق کے لے ايک ميسج بهيجا جائے گا .
6۔ کيا درخواست جمع کرانے کے ليے کوئی پروسيسنگ فيس لی جائے گی؟
ج۔ آپ کو بطور پروسسنگ فيس صرف 100 روپے ادا کرنا ہوں گے.
7۔ کيا پروسسنگ فيس قابل واپسی ہے؟
ج۔ پروسسنگ فيس قابل واپسی نہيں ہے
8۔ جمع کروائی گئی درخواست کب اور کيسے واپس لی جا سکتی ہے؟
ج۔ جمع کرائی گئی درخواست منظور يا مسترد ہونے سے پہلے کسی بهی وقت واپس لی جا سکتی ہے۔ اگر
درخواست منظور کر لی گئی ہو تو آفر مسترد کر کے درخواست واپس لی جا سکتی ہے۔ اگر درخواست
مسترد کر دی جائے تو واپس نہيں لی جا سکتی، اس صورت ميں درخواست کی حيثيت بطور ” مسترد” ہی
رہے گی۔
9۔ پروسسنگ کے ليے درخواست کی منظوری کا کيسے پتہ چل سکتا ہے؟
ج۔ پورٹل پر درخواست جمع کروانے کے بعد آپ کے ديے گئے نمبر پر منتخب کرده بينک اور برانچ کی
تفصيلات کے ساته تصديقی ايس ايم ايس بهيجا جائے گا.
10۔ کيا کوئی بهی شخص درخواست جمع کرانے کے ليے درخواست گزار کی مدد کر سکتا ہے؟
ج۔ سميڈا نے درخواستيں جمع کرانے ميں رہنمائی کے ليے ہيلپ ڈيسکس قائم کيے ہيں۔ اس کے علاوه
نيشنل بينک آف پاکستان، بينک آف پنجاب اور بينک آف خيبر کی کسی بهی قريبی شاخ سے رابطہ کيا جا
سکتا ہے۔
11۔ کيا درخواست فارم حاصل کرنے کے ليے خود بينک جانا پڑے گا؟
ج۔ درخواست فارم حاصل کرنے کے ليے آپ کو کہيں جانے کی ضرورت نہيں ہے۔ تمام درخواستيں
نيچے ديے گئے لنک پر آن لائن جمع کرائی جائيں گی.
http://yes.kamyabjawan.gov.pk/BankForm/ApplicantForm

12۔ کيا يہ درخواست فارم مارکيٹ ميں دستياب ہيں؟ کيا فارم کی فوٹو کاپی استعمال کی جا سکتی ہے؟
ج۔ تمام درخواستيں اس لنک پر آن لائن جمع کرانی ہيں:
http://yes.kamyabjawan.gov.pk/BankForm/ApplicantForm

13۔ اگر کوئی فارم غلط پ ُر ہو جائے اور نئے فارم کی ضرورت ہو تو اس سلسلے ميں کيا کرنا چاہيے؟
ج۔ درخواست فارم اس لنک پرجا کر آن لائن جمع کرائے جا سکتے ہيں:
http://yes.kamyabjawan.gov.pk/BankForm/ApplicantForm
فارم ميں تبديلی اور درستگی کے ليے جمع کرانے سے پہلے فارم پ ُر کر کے اپنے پاس محفوظ کيا جا
سکتا ہے۔ ليکن فارم جمع کرانے کے بعد کوئی تبديلی يا درستگی نہيں کی جا سکتی۔
فارم پ ُر کرتے وقت مندرجہ زيل باتوں کا دهيان رکهيں:
٭ فارم کو دهيان سے اور درست طور پہ پ ُر کريں.
٭ پ ُر کيا ہوا فارم جمع کروانے سے پہلے اپنے پاس محفوظ کر ليں.
٭ کسی بهی قسم کی درستگی کے ليے فارم مکمل طور پر پڑهنے کے بعد جمع کرائيں.
14۔ درخواست فارم جمع کرانے کے ليے کون کون سے دستاويزات منسلک کرنا ضروری ہيں؟
ج۔ آن لائن فارم جمع کرواتے ہوئے کسی قسم کے دستاويزات کی ضرورت نہيں.
15۔ کيا درخواستيں جمع کرانے ميں رہنمائی کے ليے کسی کاروباری مشير کو زمہ دارياں دی گئی ہيں؟
ج۔ يہ ايک بہت ہی آسان فارم ہے جس ميں بہت کم معلومات کی ضرورت ہے اس ليے اس کے ليے کوئی
مشير مقرر نہيں کيے گئے۔ تاہم، کسی بهی درخواست گزار کو پهر بهی مدد کی ضرورت ہو تو سميڈا
سميت نيشنل بينک آف پاکستان، بينک آف پنجاب اور بينک آف خيبرکی کسی بهی قريبی شاخ سے رجوع
کيا جا سکتا ہے۔
16۔ کيا کوئی بهی کاروباری مشير درخواست کی منظوری سے متعلق ضمانت دے سکتا ہے؟
ج۔ تمام درخواست گزاروں کو متنبہ کيا جاتا ہے کہ فيصلہ سازی کے عمل کو متاثر کرنے کے ليے کوئی
بهی غير اخلاقی رويہ اختيار کرنے سے گريز کريں۔ يہ سکيم مکمل طور پر ميرٹ کی بنياد پر تيار کی
گئی ہے، کوئی بهی شخص يا اداره درخواست کی منظوری يا کسی بهی قسم کی ضمانت نہيں دے سکتا۔
تمام درخواستيں بينکوں کی مقرره شرائط و ضوابط کے مطابق پرکهی جائيں گی۔ فيصلہ سازی کے عمل
کو متاثر کرنے والی کوئی بهی کوشش کرنے پر درخواست گزار کو مستقل طور پر نا اہل قرار ديا جا
سکتا ہے۔
17۔ اگر کوئی درخواست گزار کسی مشير کو درخواست کی منظوری کے ليے فيس دے تو اس ميں بينک
کی کيا زمہ داری بنتی ہے؟
ج۔ تمام درخواست گزاروں کو متنبہ کيا جاتا ہے کہ فيصلہ سازی کے عمل کو متاثر کرنے کے ليے کوئی
بهی غير اخلاقی رويہ اختيار کرنے سے گريز کريں۔ يہ سکيم مکمل طور پر ميرٹ کی بنياد پر تيار کی
گئی ہے، کوئی بهی شخص يا اداره درخواست کی منظوری يا کسی بهی قسم کی ضمانت نہيں دے سکتا۔
تمام درخواستيں بينکوں کی مقرره شرائط و ضوابط کے مطابق پرکهی جائيں گی۔ فيصلہ سازی کے عمل
کو متاثر کرنے والی کوئی بهی کوشش کرنے پر درخواست گزار کو مستقل طور پر نا اہل قرار ديا جا
سکتا ہے۔
پرائم منسٹر آفس يا کوئی بهی بينک کسی شخص يا ادارے کو درخواست منظوری کے ليے دی جانے
والی رقم کے ليے زمہ دار نہيں ہوگا۔
18۔ کيا درخواست فارم جاری کرده بينک کے علاوه کسی اور بينک ميں جمع کرايا جا سکتا ہے؟
ج۔ اس سکيم کے تحت قرض لينے کے ليے درخواست صرف آن لائن جمع کروائی جا سکتی ہے۔ آپ کو
اس لنک پہ صرف فارم پ ُر کر کے جمع کرانا ہے۔
http://yes.kamyabjawan.gov.pk/BankForm/ApplicantForm
آپ کے منتخب کرده بينک کی قريبی شاخ خود بخود منتخب ہو جائے گی اورآپ کے ديے گئے نمبر پر
تصديق کے لے ايک ميسج بهيجا جائے گا.
19۔ کيا اس سکيم کے ليے کچه خاص علاقوں کی نامزدگی کی گئی ہے؟
ج۔ تمام بينکوں ميں درخواستوں کو منظور يا مسترد کرنے کے ليے ايک ہی معياری طريقہ کار وضع کيا
گيا ہے۔
درخواست گزار کی اہليت کا معيار:
20۔ درخواست گزاروں کے ليے عمر کی حد کيا ہے؟
ج۔ اس سکيم کے تحت درخواست جمع کرواتے وقت درخواست گزار کی کم سے کم عمر کی حد 21 سال
ہے۔ تاہم آئی ٹی اور کمپيوٹر سے متعلقہ لوگوں کے ليے کم سے کم عمر کی حد 18 سال ہے۔ درخواست
جمع کرواتے وقت درخواست گزار کی زياده سے زياده عمر 45 سال ہونی چاہيے۔
21۔ اگر کسی شخص کی زياده سے زياده عمر درخواست جمع کرواتے وقت مقرره حد ميں ہو ليکن
درخواست کی منظوری يا مستردہوتے وقت مقرره حد سے زياده ہو جائے تو کيا ہوگا؟
ج۔ درخواست جمع کرواتے وقت درخواست گزار کی عمر 45 سال يا اس سے کم ہونی چاہيے۔ اگر
درخواست کی منظوری يا مستردکے وقت عمر مقرره حدود سے تجاوز کر جائے تو اس سے درخواست
گزار کی اہليت پر کوئی فرق نہيں پڑے گا۔
22۔ کسی درخواست گزار کے ليے کم سے کم تعليمی قابليت کی مقرره حد کيا ہے؟
ج۔ کسی بهی درخواست گزار کے ليے کم سے کم تعليمی قابليت کی کوئی حد مقرر نہيں ہے، تاہم يہ
بينکوں کے ليے فيصلہ کرنے ميں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کچه مخصوص کاروباروں کے ليے
خصوصی اہليت، سرٹيفيکيشنز، ڈپلومہ کی ضرورت ہوتی ہے جو ہونا لازمی ہے۔
23۔ کيا کسی مخصوص صنف کے ليے ترجيحی بنيادوں پر کوٹہ مقرر کيا گيا ہے؟ اگر ہاں، تو کونسی
صنف؟
ج۔ اس سکيم کے تحت کسی بهی مخصوص صنف کے ساته امتيازی سلوک روا نہيں رکها جائے گا، تمام
درخواست گزاروں کو مساوی مواقع فراہم کيے جائيں گے۔ تاہم زمينی حقائق اور صنف کی منصفانہ تقسيم
کے ليے 25 ٪فيصد حصہ خواتين کے ليے مختص کيا گيا ہے۔
24۔ کيا بر سر روزگار افراد اس قرض سکيم کے ليے درخواست دے سکتے ہيں؟
ج۔ پرائيويٹ نوکريوں والے ملازمين بهی اس سکيم ميں درخواست دے سکتے ہيں۔

25۔ کيا يہ منصوبہ صرف سٹارٹ اپس کے ليے مختص ہے؟
ج۔ يہ سکيم سٹارٹ اپس کے ساته ساته موجوده مائيکرو اور چهوٹے کاروباروں کے ليے بهی تيار کی
گئی ہے۔
26۔ کيا موجوده کاروباری افراد بهی اس سکيم سے فائده اٹها سکتے ہيں؟
ج۔جی ہاں ، موجوده چهوٹے اور درميانی کاروبار والے افراد بهی اس سکيم سے فائده اٹها سکتے ہيں۔
27۔ کيا ايک ہی خاندان کے ايک سے زائد افراد اس سکيم کے ليے درخواست دے سکتے ہيں؟
ج۔ جی ہاں.
28۔ کيا 2 يا 2 سے زياده افراد مشترکہ طور پر درخواست دے سکتے ہيں؟
ج۔ جی ہاں، ليکن دونوں کے ليے مشترکہ اور انفرادی طور پر قرض کے ليے اہل ہونا ضروری ہے۔
29۔ کيا بيرون ملک مقيم پاکستانی درخواست دے سکتے ہيں؟
ج۔ جی نہيں، يہ سکيم پاکستان ميں مقيم پاکستانيوں کے ليے مختص ہے۔
30۔ ايک فرد کتنی بار قرض لے سکتا ہے؟
ج۔ ايک فرد صرف ايک بار ہی قرض کے ليے درخواست دے سکتا ہے۔ تاہم، قرض کی پہلی ادائيگی اور
بينک کی جانب سے کليئرنس سرٹيفيکيٹ کے حصول کے بعد دوسرے قرض کے ليے درخواست دی جا
سکتی ہے۔
31۔ کيا سکيم سے منسلک بينکوں کے ملازمين کے قريبی رشتہ دار قرض کے حصول کے ليے
درخواست دے سکتے ہيں؟
ج۔ منسلک بينکوں کے ملازمين کے قريبی رشتہ دار اس سکيم ميں ان بينکوں کے زريعے درخواستيں
نہيں دے سکتے جہاں ان کے قريبی رشتہ دار تعينات ہوں۔ تاہم، يہ قريبی رشتہ دار ديگر بينکوں کے
زريعے قرض کے حصول کے ليے درخواست دے سکتے ہيں۔
32۔ کيا سرکاری ملازمين قرض کے حصول کے ليے درخواست دے سکتے ہيں؟
ج۔ جی نہيں، سرکاری ملازمين کی اس سکيم ميں درخؤاست دينے کی سختی سے ممانعت ہے۔
منظور شده کاروبار Businesses Eligible
33۔ اس سکيم کے تحت کس قسم کے کاروبار شروع کيے جا سکتے ہيں؟
ج۔ وه تمام اخلاقی کاروبار جن کی قانون کے تحت اجازت دی گئی ہے، اس سکيم کے تحت ليے گئے
قرض سے شروع کيے جا سکتے ہيں۔
34۔ کيا اس سکيم کے تحت شروع کيے جانے والے مثبت کاروباروں کی فہرست فراہم کی جائے گی؟
ج۔ سکيم کے تحت کسی مثبت يا منفی کاروبار کی فہرست تيار نہيں کی گئی۔ تاہم، درخواست گزاروں کو
ايسے کاروبار منتخب کرنے کا مشوره ديا جاتا ہے جو اخلاقی، قانونی اور ان کے علاقوں ميں تجارتی
لحاظ سے چلنے والے ہوں۔ اس کے ساته ساته ان کے بارے ميں متعلقہ آگاہی، تجربہ اور مہارت رکهتے
ہوں۔
35۔ کيا کسی منفی کاروباروں کی فہرست فراہم کی جائے گی؟
ج۔ ج۔ سکيم کے تحت کسی مثبت يا منفی کاروباروں کی فہرست تيار نہيں کی گئی۔ تاہم، درخواست
گزاروں سے ايسے کاروبار منتخب کرنے کا مشوره ديا جاتا ہے جو اخلاقی، قانونی اور ان کے علاقوں
ميں تجارتی لحاظ سے چلنے والے ہوں۔ اس کے ساته ساته ان کے بارے ميں متعلقہ آگاہی، تجربہ اور
مہارت رکهتے ہوں۔

36۔ اپنے تجربے کے متعلق کاروبار کيسے منتخب کيا جائے؟
ج۔ درخواست گزاروں کو ايسے کاروبار منتخب کرنے کا مشوره ديا جاتا ہے جو اخلاقی، قانونی اور ان
کے علاقوں ميں تجارتی لحاظ سے چلنے والے ہوں۔ اس کے ساته ساته ان کے بارے ميں متعلقہ آگاہی،
تجربہ اور مہارت رکهتے ہوں۔
37۔ کيا درخواست کے ساته سميڈا کی فزيبليٹی رپورت منسلک کرنا لازمی ہے؟
ج۔ جی نہيں، سميڈا کی فزيبيلٹی رپورٹس صرف درخواست گزاروں کی رہنمائی کے ليے بنائی گئی ہيں
۔
38۔ سميڈا فزيبيلٹی رپورٹ کس مقصد کے ليے بنائی گئی ہيں؟
ج۔ سميڈا کی فزيبيلٹی رپورٹس صرف درخواست گزاروں کی رہنمائی کے ليے بنائی گئی ہے۔
39۔ کيا سميڈا کاروباری منصوبے کی تياری ميں مدد فراہم کر سکتا ہے؟
ج۔ جی ہاں، اس مقصد کے ليے سميڈا کے قريبی دفاتر سے رابطہ کيا جا سکتا ہے۔
40۔ کيا اپنی بنائی ہوئی فزيبيلٹی رپورٹ جمع کرائی جا سکتی ہے؟
ج۔ جی ہاں، اس سلسلے ميں رہنمائی کے ليے سميڈا کے قريبی دفاتر سے بهی رابطہ کيا جا سکتا ہے۔
41۔ کاروبار منتخب کرنے سے پہلے کن عوامل کو مد نظر رکهنا چاہيے؟
ج۔ اپنے کاروبار کے انتخاب ميں بہت احتياط سے کام ليں۔ اس سلسلے ميں مندرجہ ذيل عوامل انتہائی اہم
هيں:
a۔ علاقائی و کاروباری مناسبت
b۔ درخواست گزار کا اپنا شوق اور اہليت
c -درخواست گزار کا ہنر، تجربہ، تعليم اور مہارت
d -کاروباری مصنوعات کی موجوده طلب و رسد
E۔ کاروباری لاگت اور درکار وقت۔
F۔ کم سے کم آمدن اور خرچ
G۔ محصولات اور کاروباری حدود
H۔ مستقبل کے ممکنہ خطرات
42۔ کيا درخواست گزاربعد ازاں منتخب کرده کاروبار کو تبديل کر سکتا ہے؟
ج۔ جی نہيں، درخواست جمع کرانے کے بعد منتخب کرده کاروبار ميں تبديلی نہيں کی جا سکتی۔ تاہم،
درخواست گزار اپنی جمع شده درخواست واپس لے کر نئی درخواست جمع کرا سکتا ہے۔

سيکيورٹی و اخراجات:
43۔ کيا قرض کے حصول کے ليے سيکيورٹی فراہم کرنا لازمی ہے؟
ج۔ 000،500 يا اس سے کم کے قرض کے ليے کوئی سيکيورٹی درکار نہيں۔
000،500 سے زائد کے قرض کے ليے بينک کے ليے قابل قبول سيکيورٹی ضروری ہے۔ دوسرے
درجوں کے قرضوں کے ليے سيکيورٹی سے متعلق فيصلہ بينکوں پہ منحصر ہے۔ تاہم، ان ميں مندرجہ
ذيل نکات شامل ہو سکتے ہيں۔
٭ درخواست گزار کی جائيداد (رہائشی، تجارتی، زرعی) رہن رکهنا
٭ کسی تيسرے فرد کی جائيداد (رہائشی/کمرشل) کو گروی رکهنا
٭ کرايہ پر گاڑيوں کی خريداری (مشترکہ رجسٹريشن)
٭ مارکيٹ ميں محفوظ سيکيورٹيز، بينک زخائر، قومی بچت سرٹيفيکيٹ وغيره
٭ موجوده اور طے شده اثاثوں بشمول رسيدوں کو گروی رکهنا
٭ سونے کے زيورات گروی رکهنا
٭ مشترکہ سٹاک کمپنی کے ليے کاروباری اثاثوں پر رجسٹرڈ چارج
٭ کسی تيسرے فرد کی طرف سے ضمانت
يہ فہرست صرف سيکيورٹی کے حوالے سے کچه چيده معلومات کے ليے بنائی گئی ہے۔ سيکيورٹی کے
حوالے سے اصل فيصلہ ہر کيس ميں مختلف ہو سکتا ہے جو کہ منسلک بينکوں کی پاليسيوں اور طريقہ
کار پر مبنی ہوگا۔
44۔ مجهے کس قسم کی سيکيورٹی فراہم کرنی پڑے گی؟
ج۔ 000،500 يا اس سے کم کے قرض کے ليے کوئی سيکيورٹی درکار نہيں۔
000،500 سے زائد کے قرض کے ليے بينک کے ليے قابل قبول سيکيورٹی ضروری ہے۔
دوسرے درجوں کے قرضوں کے ليے سيکيورٹی سے متعلق فيصلہ بينکوں پہ منحصر ہے۔ تاہم، ان ميں
مندرجہ ذيل نکات شامل ہو سکتے ہيں۔
٭ درخواست گزار کی جائيداد (رہائشی، تجارتی، زرعی) رہن رکهنا
٭ کسی تيسرے فرد کی جائيداد (رہائشی/کمرشل) کو گروی رکهنا
٭ کرايہ پر گاڑيوں کی خريداری (مشترکہ رجسٹريشن)
٭ مارکيٹ ميں محفوظ سيکيورٹيز، بينک زخائر، قومی بچت سرٹيفيکيٹ وغيره
٭ موجوده اور طے شده اثاثوں بشمول رسيدوں کو گروی رکهنا
٭ سونے کے زيورات گروی رکهنا
٭ مشترکہ سٹاک کمپنی کے ليے کاروباری اثاثوں پر رجسٹرڈ چارج
٭ کسی تيسرے فرد کی طرف سے ضمانت
يہ فہرست صرف سيکيورٹی کے حوالے سے کچه چيده معلومات کے ليے بنائی گئی ہے۔ سيکيورٹی
کے حوالے سے اصل فيصلہ ہر کيس ميں مختلف ہو سکتا ہے جو کہ منسلک بينکوں کی پاليسيوں اور
طريقہ کار پر مبنی ہوگا۔
45۔ جمع کروائی جانے والی سيکيورٹی کی ماليت کتنی ہونی چاہيے؟
ج۔ سيکيورٹی کی قابل قبول ماليت اس کی ساکه اور منسلک بينکوں کی پاليسيوں پر منحصر ہوگی۔ تاہم،
عمومی طور پر، اس کی ماليت قرض کی رقم، قرض کے مارک اپ اور ممکنہ اخراجات کے مطابق ہونی
چاہيے۔
46۔ کيا قرض حاصل کرنے کے ليے کسی تيسرے فرد کی ضمانت دی جا سکتی ہے؟
ج۔ جی ہاں، اس سکيم کے تحت کسی تيسرے فرد کی ضمانت کی قبوليت منسلک شده بينکوں کی
پاليسيوں سے مشروط ہے۔
47۔ کيا قرض حاصل کرنے کے ليے ضمانت کے طور پہ کسی تيسرے فرد کی گارنٹی دے سکتا ہوں؟
ج۔ جی ہاں، اس سکيم کے تحت کسی تيسرے فرد کی ضمانت کی قبوليت منسلک شده بينکوں کی پاليسيوں
سے مشروط ہے۔
48۔ کيا جو شخص ميرے قرض کے ليے ضمانت دے رہا ہے، وه خود قرض حاصل کرنے کے ليے
درخواست دے سکتا ہے؟
ج۔ جی نہيں، کسی بهی قرض کے ليے ضمانت دينے والا شخص اپنے ليے قرض حاصل کرنے کی
درخواست نہيں دے سکتا۔
49۔ کيا شوہر/بيوی/ والد/ بهائی/ بيٹے/ بيٹی کی ضمانت قابل قبول ہے؟
ج۔ جی نہيں، درخواست گزار کے شوہر/ بيوی/ والد/ بهائی/ بيٹا/ بيٹی/ بہو/ سسر/ ساس قرض کے ليے
ضامن نہيں ہو سکتے۔
50۔ کيا ضمانت دينے والا شخص خود قرض حاصل کرنے کے ليے درخواست دے سکتا ہے اور اس
سہولت سے فائده اٹها سکتا ہے؟
ج۔ جی نہيں، کسی بهی قرض کے ليے ضمانت دينے والا شخص اپنے ليے قرض حاصل کرنے کی
درخواست نہيں دے سکتا۔
51۔ ايک شخص کتنے قرضوں کی ضمانت دے سکتا ہے؟
ج۔ ايک شخص صرف ايک ہی قرض کی ضمانت دے سکتا ہے۔
52۔ کيا کوئی ضمانت دينے والا شخص جس کی ضمانت کی توثيق نہ ہو سکی ہو، کسی دوسرے قرض
کے ليے ضمانت دے سکتا ہے؟
ج۔ ايسا ضامن جس کی ضمانت کی توثيق نہ ہو سکی ہو وه کسی دوسرے قرض کے ليے ضمانت نہيں
دے سکتا۔
53۔ کيا کوئی ضمانت دينے والا شخص جس کی ضمانت کی توثيق نہ ہو سکی ہو وه اپنے ليے قرض کی
درخواست دے سکتا ہے؟
ج۔ ايسا ضامن جس کی ضمانت کی توثيق نہ ہو سکی ہو وه اپنے ليے قرض کی درخواست نہيں دے سکتا۔
54۔ کيا ضمانت دينے والا شخص ضامن کی حيثيت سے اپنا اقرار نامہ واپس لے سکتا ہے؟
ج۔ ضمانت دينے والا شخص ضامن کی حيثيت سے ديے جانے والا اقرار نامہ قرض کی ادائيگی سے
پہلے کسی بهی وقت واپس لے سکتا ہے۔
55۔ کوئی بهی ضامن اپنا اقرار نامہ کب واپس نہيں لے سکتا؟
ج۔ ضمانت دينے والا شخص ضامن کی حيثيت سے ديے جانے والا اقرار نامہ قرض کی ادائيگی کے بعد
واپس نہيں لے سکتا ہے۔
56۔ قرض کے حوالے سے ضمانت دينے والے شخص کی اہم زمہ دارياں کيا ہيں؟
ج۔ ضمانت دينے والا شخص مندرجہ ذيل تمام نکات ميں سے کسی کا بهی زمہ دار ہو سکتا ہے:
٭ قسطوں کی ادائيگی، قرض کی رقم کی وصولی اور مارک اپ کے حوالے سے بينک کی مدد
٭ قرض سے متعلق کسی بهی قسم کی معلومات بينک کو بروقت فراہم کرنا
٭ قرض دہنده کو باقاعدگی سے ادائيگياں جاری رکهنے کی ترغيب دينا
٭ قرض دہنده سے قرض کی وصولی اور واپسی کے ليے بينک کی ہر ممکن مدد کرنا
٭ ڈيفالٹ ہونے کی صورت ميں قرض کی واپسی

57۔ کيا درخواست گزار پيش کرده ضمانت بدل سکتا ہے؟
ج۔ قرض کی فراہمی کے بعد درخواست گزار بينک کی رضامندی کے بغير يک طرفہ طور پر پيش کرده
ضمانت تبديل نہيں کر سکتا۔
58۔ اس سارے عمل کی قانونی لاگت کتنی ہے اور وه کون برداشت کرتا ہے؟
ج۔ قانونی لاگت گروی رکهی گئی شے کی نوعيت پر منحصر ہے جو کہ منتخب کرده بينک کے حساب
سے مختلف ہو سکتی ہے۔ صارفين لاگت کی بنياد پريہ رقم ادا کريں گے۔
59۔ بطور ضمانت رکهے گئے اثاثہ جات کی قيمت کيا ہونی چاہيے اور يہ اخراجات کون برداشت کرے
گا؟
ج۔ بطور ضمانت رکهے گئے اثاثہ جات کی قيمت مختلف بينکوں کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے۔
اور يہ اخراجات لاگت کے حساب سے صارفين ادا کريں گے۔
قيمتوں کا تعين اور ادائيگی کی شرائط
60۔ اس سکيم کے ليے مارک اپ کی شرح کيا ہے؟
ج۔ پہلے مرحلے ميں 000،500 يا اس سے کم قرضوں پر سالانہ مارک اپ کی شرح 6 ٪ہے۔ دوسرے
مرحلے ميں 000،500 سے زياده کے قرضوں پر سالانہ مارک اپ کی شرح 8 ٪ہے۔
61۔ اس قرض کا دورانيہ کيا ہے؟
ج۔ اس سکيم کے تحت قرض کی ادائيگی کے ليے زياده سے زياده مدت 8 سال ہے جس ميں 1 سالہ
رعايتی مدت شامل ہے۔ تاہم قرض کی مقرره اور اضافی مدت کا انحصار منسلک بينکوں اور کاروباری
طرز پر منحصر ہے۔
62۔ زاتی وسائل سے کس حد تک رقم جمع/ادا کی جا سکتی ہے؟
ج۔ 000,500 يا اس سے کم رقم کے قرض کے ليے زاتی زرائع سے جمع کرانے والی رقم کم سے کم
٪10 ہے۔ 000،500 سے زائد رقم کے قرض کے ليے زاتی زرائع سے جمع کرائی جانے والی رقم 20 ٪
ہے۔
63۔ کيا يہ رقم نقد ہونا ضروری ہے؟
ج۔ عمومی طور پردرخواست دہنده کی جانب سے يہ رقم نقد ہونا بہترين زريعہ ہے۔ تاہم، درخواست گزار
يہ رقم غير منقولہ جائيداد کی شکل ميں بهی فراہم کر سکتے ہيں بشرطيکہ منسلک بينکوں کو قابل قبول ہو۔
64۔ قرض کی واپس ادائيگی کس طرح کی جائے گی؟
ج۔ قرض کی واپس ادائيگی ماہانہ، سہ ماہی، دو سالانہ يا سالانہ بنيادوں پر کی جا سکتی ہے۔ البتہ
ادائيگی کی اصل شرائط کاروبار کی نوعيت اور بينکوں کے فيصلوں پر منحصر ہوگی۔
65۔ کيا قرض کی واپس ادائيگی کے ليے کوئی رعايتی مدت مقرر کی گئی ہے؟
ج۔ سکيم ميں زياده سے زياده 1 سال رعايتی مدت مقرر کی گئی ہے۔ تاہم، رعايتی مددت کا انحصار
کاروبار کی نوعيت اور بينک کے فيصلوں پر ہوگا
66۔ کيا رعايتی مدت تمام درخواست گزاروں کے ليے ميسر ہوگی؟
ج۔ سکيم ميں زياده سے زياده 1 سال رعايتی مدت مقرر کی گئی ہے۔ تاہم، رعايتی مددت کا انحصار
کاروبار کی نوعيت اور بينک کے فيصلوں پر ہوگا
67۔ ۔ کيا مجهے رعايتی مدت ميں ادائيگی کرنے کی ضرورت ہوگی؟
ج۔ سکيم ميں زياده سے زياده 1 سال رعايتی مدت مقرر کی گئی ہے۔ تاہم، رعايتی مددت کا انحصار
کاروبار کی نوعيت اور بينک کے فيصلوں پر ہوگا۔ رعايتی مدت کے دوران درخواست گزار کو مندرجہ
زيل ادائيگياں کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے
٭ بغير کسی ادائيگی کے جو مارک اپ رکا ہوا ہے اس کی ادائيگی آخر ميں اکهٹی کی جائے گی.
٭ صرف مارک اپ کی ادائيگی.
68۔ کيا معاہدے کے مطابق ادائيگيوں کے ساته ساته مزيد ادائيگياں کی جا سکتی ہيں؟
ج۔ جی ہاں، درخواست گزار قرض کی مدت کے دوران مزيد ادائيگياں جلد کر سکتے ہيں جس سے ان
کے زمہ قرض کی رقم کی ادائيگيوں ميں کمی واقع ہو گی۔ 000،500 سے کم رقم کے قرض کے ليے
ادائيگی 000،25 ہوگی جبکہ 000،500 سے زائد رقم کے ليے ادائيگی 000،50 ہوگی۔ يک مشت
ادائيگيوں کی کوئی حد مقرر نہيں کی گئی۔ قرض لينے والا صرف اس صورت ميں يک مشت ادائيگی کر
سکتا ہے اگر ليے گئے قرض کی کوئی رقم واجب الادا نہيں ہے ۔ يک مشت ادائيگی کرنے والا درخواست
گزار قرض کی ادائيگی کی مدت يا قسطوں ميں کمی کروا سکتا ہے يا ان دونوں کا استعمال مجموعی طور
بهی کر سکتا ہے۔
69۔ سکيم کے تحت کتنی يک مشت ادائيگياں کی جا سکتی ہيں؟
ج۔ اس سکيم کے تحت يک مشت ادائيگيوں کی کوئی حد مقرر نہيں کی گئی۔
70۔ کيا يک مشت ادائيگيوں کے ليے کوئی شرائط رکهی گئی ہيں؟
ج۔ ۔ قرض لينے والا صرف اس صورت ميں يک مشت ادائيگی کر سکتا ہے اگر ليے گئے قرض کی
کوئی رقم واجب الادا نہيں ہے۔
71۔ کيا قرض دہنده کو يک مشت ادائيگيوں کے ليے کوئی اختيارات حاصل ہيں؟
ج۔ يک مشت ادائيگی کرنے والا درخواست گزار قرض کی ادائيگی کی مدت يا قسطوں ميں کمی کروا
سکتا ہے يا ان دونوں کا استعمال مجموعی طور بهی کر سکتا ہے۔
72۔ کيا قرض کی تمام رقم معاہدے کے مطابق مقرره وقت سے پہلے ادا کی جا سکتی ہے؟
ج۔ جی ہاں، درخواست گزار قرض کی تمام رقم معاہدے کے مطابق مقرره وقت سے پہلے ادا کر سکتا
ہے۔ اس طرح کی ادائيگی کے ليے کوئی جرمانہ يا سزا نہيں رکهی گئی۔
73۔ کيا جلد ادائيگيوں کی مد ميں کوئی سزا يا جرمانہ رکها گيا ہے؟
ج۔ جی نہيں، درخواست گزار قرض کی تمام رقم معاہدے کے مطابق مقرره وقت سے پہلے ادا کر سکتا
ہے۔ اس طرح کی ادائيگی کے ليے کوئی جرمانہ يا سزا نہيں رکهی گئی۔
قرض کی فراہمی و ادائيگی:
74۔ قرض کی منظوری کا طريقہ کار کيا ہے؟
ج۔ قرض کی منظوری کا عمل عمومی طور پر تين مراحل پر مشتمل ہوتا ہے؛ توثيق، تجزيہ اور فيصلہ
سازی۔ تاہم ہر بينک کا طريقہ کار دوسرے سے مختلف ہو سکتا ہے۔
75۔ قرض کی درخواست پر فيصلہ کرنے کے ليے کتنا وقت درکار ہوگا؟
ج۔ کسی بهی درخواست پر فيصلہ اوسطاً 15 – 30 دن ميں کيا جائيگا۔ يہ وقت اس وقت شروع ہوتا ہے
جس دن وزيراعظم آفس کے پورٹل سے درخواست منتخب کيے گئے بينک کو منتقل کی جاتی ہے۔
76۔ يہ وقت کب شروع ہوگا؟
ج۔ کسی بهی درخواست پر فيصلہ اوسطا 15 – 30 دن ميں کيا جائيگا۔ يہ وقت اس وقت شروع ہوتا ہے ً
جس دن وزيراعظم آفس کے پورٹل سے درخواست منتخب کيے گئے بينک کو منتقل کی جاتی ہے۔

77۔ کيا ايسا کوئی طريقہ کار ہے جس کی مدد سے درخواست کا سٹيٹس معلوم کيا جا سکے؟
ج۔ جی ہاں، اپنی درخواست کا سٹيٹس وزيراعظم آفس کے پورٹل پر ديکها جا سکتا ہے۔ تمام بينکوں کے
ليے تفويض کرده درخواستوں کے سٹيٹس اپ ڈيٹ کرنا لازمی ہے۔
78۔ درخواست کی منظوری يا مستردہونے سے متعلق کس طرح پتہ لگايا جا سکتا ہے؟
ج۔ اپنی درخواست کا سٹيٹس وزيراعظم آفس کے پورٹل پر ديکها جا سکتا ہے۔ تمام بينکوں کے ليے
تفويض کرده درخواستوں کے سٹيٹس اپ ڈيٹ کرنا لازمی ہے۔ اس کے علاوه جب بهی کوئی درخواست
منظور يا مسترد کی جاتی ہے تو بينک کی جانب سے درخواست گزار کو ميسج بهيج ديا جاتا ہے۔
79۔ قرض کی درخواست پر غير ضروری تاخير سے متعلق کہاں پر شکايت کی جا سکتی ہے؟
ج۔ تمام درخواستوں کی براه راست نگرانی وزيراعظم آفس اور سٹيٹ بينک کے زريعے کی جاتی ہے۔
لہذا جانچ پڑتال کے کسی بهی عمل ميں تاخيرکو نوٹ کر کے بينکوں کے تعاون سے اصلاح کی جائے
گی۔
80۔ قرض کی منظوری کے بعد کيا طريقہ کار ہے؟
ج۔ قرض کی منظوری، ميسج بهيجنے اور درخواست گزار کی جانب سے آفر قبول کرنے کے بعد
مندرجہ زيل اقدامات لينے ہوں گے:
٭ درخؤاست گزار کو بينک اکاؤنٹ کهولنا ہوگا۔
٭ مطلوبہ حصہ جمع کرانا
٭ ضمانت فراہم کرنا، اگر ضروری ہو
٭ قانونی شرائط پر عملدرآمد
81۔ اگر قرض کی درخواست منظور ہو جاتی ہے تو کيا درخواست گزار کو قرض ادائيگی کی ضمانت دی
جائيگی؟
ج۔ درخواست گزار کے ليے آفر ليٹر ميں درج ادائيگی سے متعلق تمام شرائط پوری کرنا لازمی ہوگا۔ آفر
ليٹر ميں درج تمام شرائط مکمل ہونے تک قرض فراہم نہيں کيا جائے گا۔
82۔ کيا يہ ممکن ہے کہ بينک کی جانب سے منظور شده قرض کی رقم درخواست گزار کی مطلوبہ رقم
سے کم ہو؟
ج۔ منظور شده رقم کی منظوری وسيع پيمانے پر پهيلے فيصلہ سازی کے عمل کے بعد کی جاتی ہے، اور
وه رقم درخواست کرده رقم سے کم ہو سکتی ہے۔

Load More Related Articles
Load More By admin
Load More In Trending

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

famous religious scholar Allama Talib Jauhari passed away

Allama Talib Jauhari’s son confirmed the news of his death and added that he was hospitali…